نگاہ شوق میں کوئی مثال یار ہم ہوئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانگاہ شوق میں کوئی مثال یار ہم ہوئے
جو گزری تھی تمہارے بن وہ اشکبار ہم ہوئے
وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
امید وصل اشک بن کے بے قرار ہم ہوئے
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
تلاش میں سحر کے ہو خزاں بہار ہم ہوئے
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
کہ رسمی رابطہ رہا ہے مشکبار ہم ہوںے
ترے وصال کی امید اشک بن کے بہہ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سےسوگوار ہم ہوئے
گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
میں خوش ہوں تمہاری جیت میں وقار ہم ہوئے
یہ کس خوشی کے موقعے پر غموں کی نیند آ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سے ہو فگار ہم ہوئے
بڑے نصیب والے ہو کہ وہ تمہاری ہو گئی
کبھی نہ اپنے آپ کی ہو وشمہ زار ہم ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







