نہ تری جستجو نہ دھیان اب تو
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالنہ تری جستجو نہ دھیان اب تو
کھوج ڈالے ترے نشان اب تو
میں وفا کا اُدھار کیسے دوں؟
لٹ چکی عشق کی دکان اب تو
کیوں جھکیں ہم، کہاں کو جائیں ہم
نہ وہ سر نہ وہ آستان اب تو
زہر لب کا پلا کہ کہتی ہے
آپ بھی ہو گئے جوان اب تو
ایک حیرت نے آ لیا ہے مجھے
رُل گیا دھیان اور گیان اب تو
کس کے ہاں اب رہے گی یاد اُس کی
ڈھا چکا دل کا بھی مکان اب تو
میرے کمرے میں رہ گئے ہیں فقط
ایک میں اور مرا گمان اب تو
کیا عروج اور کمال کی باتیں
دم بدم ہے زوالِ جان اب تو
طنز کیا بلکہ کوسیے مجھ کو
کھل چُکی ہے تری زبان اب تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






