اب یہی کام کر رہا ہوں میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالاب یہی کام کر رہا ہوں میں
سب پہ الزام دھر رہا ہوں میں
جانِ من، تم بھی کیا ہو بلکہ اب
ہر کسی سے مکر رہا ہوں میں
دشتِ خلوت ہے دھوپ وحشت کی
رہِ فنا سے گزر رہا ہوں میں
اب فقط رات دن کی گنتی ہے
انگلیوں پر بسر رہا ہوں میں
ایک زنداں ہے میرا حجرہِ ذات
دم گُھٹے سانس بھر رہا ہوں میں
بہہ کہ حسرت کی موجِ پیچاں سے
بحرِ افسوں میں تَر رہا ہوں میں
ایک وحشت ہے درمیانِ ہجوم
جانیے کس سے ڈر رہا ہوں میں
اب مجھے قتل کر دے اے قاتل
زندگی دان کر رہا ہوں میں
وہی معمولِ زندگی اپنا
سب کو ناراض کر رہا ہوں میں
جی رہی ہے وہ زندگی اپنی
ایک اِک لمحہ مر رہا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






