نہ جانے کیا آج جی میں آ یا کہ تو مہت یاد آ رہا ہے
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississauga, Canadaتو آ ج غیرو ں کی محفلو ں میں مجھے تو کا فر بتا رہا ہے
یہ بات کتنی عجب ہے ظالم ، کبھی تو میر ا خد ا رہا ہے
وہ میٹھا میٹھا سا پیا ر تیر ا ، وہ جھو ٹا سچا قرار تیرا
نہ جانے کیا آ ج جی میں آ یا کہ تو بہت یاد آ رہا ہے
کو ئی تعلق بنائے رکھنا ، ہنسی لبو ں پہ سجائے رکھنا
یہ بات سب سے چھپائے رکھنا کہ وہ تمہارا کہاں رہا ہے
ستارو ں کی انجمن میں کو ئی و فا کے نغمے سنا رہا ہے
تجھے بھی کچھ چپُ سی لگ گئی ہے، مجھے بھی کچھ یاد آ رہا ہے
تمہیں کبھی گر ملے جو فرصت ، تو جا کے کہہ د ینا پتھرو ں سے
جو کل تلک تھا پجاری اُ نکا ، وہ ر یت سے بت بنا رہا ہے
جو شعر پڑھتا تھا محفلوں میں، جو مست رہتا تھا رتجگوں میں
بسا تھا جو آ پ کے دلوں میں، سنا ہے وہ شخص جا رہا ہے
یہ عاشقی کا خیال انو ر ، ذ ہن سے اپنے نکال انو ر
کچھ اپنے د ل کو سنبھا ل انو ر ، بہت ترا نام آ رہا ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






