نہ کلاہ کی ہے چاہت نہ تو تاج ہی عطا ہو
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaنہ کلاہ کی ہے چاہت نہ تو تاج ہی عطا ہو
ملے در کی خاک تیری یہی میرا مدعا ہو
کوئ بات ہو بھی جائے کبھی تم کو نہ وہ بھائے
تو ملیں کبھی دوبارہ نہ کسی کا کچھ گلہ ہو
یہ رہی ہے اپنی حسرت کہ سدا وفا کریں گے
نہ تو بے وفا ئی سیکھی نہ تو اس سے واسطہ ہو
کبھی ٹھیس لگ بھی جائے کبھی ٹوٹے آئینہ ہی
تو کبھی نہ لب کشائی یہی تسلیم و رضا ہو
جو عزیز پھول ہی ہو تو ہو کانٹوں سے نباہ بھی
ہو چمن کی اس سے زینت یہی اپنا مقتضا ہو
کبھی دیکھو یہ پرندے جو فضاؤں میں ہیں اڑتے
انہیں کون ہے جو تھاما تو اسی کی بس ثنا ہو
یہ جو قیمتی ہیں باتیں یہی اثر نےتو سیکھیں
جو بھلا کرے بھلا ہو جو برا کرے برا ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






