نہ یوں غلطیوں پہ نقاب دے

Poet: پنچھی By: Abdulwadood, Chiniot

نہ سوال کر نہ جواب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
نہ یوں غلطیوں پہ نقاب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
میرے دل کی ساری وہ سسکیاں
کیوں تیری سماعت نہ پا سکی
کروں اشک اب کہاں درج میں
مجھے غم کی کوئ کتاب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
وہ جو لمحے دوریوں میں جیے
وہ جو اشک تنہا تھے پیے
تجھ سے ہے بس فریاد یہ
مجھے کچھ تو انکا ثواب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
میرے چھلنی تن پہ جو زخم ہیں
وہ تیرے درد مجھ پہ رقم ہیں
جو ڈھانپ لے میری روح کو
مجھے کوئ ایسا حجاب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
مجھے روک لےمجھے ٹوک لے
چاہے میری جاں مجھے نوچ لے
میں تو بس تیری جاگیر ہوں
مجھے اپنا کوئ خطاب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
میں جل چکا تیری راہ میں
تو دیکھ غم میری آہ میں
اب حال پر میرے رحم کر
مجھے اب نہ کوئ بھی خواب دے
مجھے آج بس تو حساب دے
نہ یوں غلطیوں پہ نقاب دے

Rate it:
Views: 481
26 Apr, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL