نہیں رہنا کبھی تنہا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنہیں رہنا کبھی تنہا رفاقت آشنا کرنا
حققیت آشنا کرنا صداقت آشنا کرنا
نہیں جو جانتے تم کو بتادو سچ حقیقت تم
کبھی تم بولنا مت جھوٹ فطرت آشنا کرنا
نہیں ہے بے وفا وہ ہوئی ہے کوئی غلط فہمی
اکیلے بیٹھ کر ان سے محبت آشنا کرنا
تعلق ختم ہو جائے گا نکلو گے رفاقت سے
شرافت بھول جائیں گے جسارت آشنا کرنا
سمجھتے ہیں جو کم تر ہی تجھےشہرت ملے گی تب
نہیں جو جانتے تم کو ذہانت آشنا کرنا
نہیں بدلا ہوں میں تیرا ہوں تیرا ہی رہوں گا میں
یقیں آئے گا پھر اس کو شکایت آشنا کرنا
مرے پاؤں میں آبلے ہیں سفر دشوار تھا کرنا
جو طے شہزاد کی ہے وہ مسافت آشنا کرنا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






