واللہ! ایک قیامت اُٹھائی سیلاب نے
Poet: Muhammad Azam Azim Azam By: Muhammad Azam Azim Azam, Karachiجو حکمراں ہیں آج وہ دجال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
جو تھے گُلِ شگفتہ وہ پامال ہوگئے
کیسی؟ تباہی آج مچائی سیلاب نے
ہر سَمت جیسے موت سجائی سیلاب نے
بحرِ خدا کی شان دکھائی سیلاب نے
واللہ! ایک قیامت اُٹھائی سیلاب نے
طوفاں کی نظر سیکڑوں ہی لال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
کیسی؟ تباہ کاری دِکھائی گئی ہے آج
بچے بڑے کی لاش اُٹھائی گئی ہے آج
آواز غمزدوں کی سُنائی گئی ہے آج
بے چینیاں دلوں میں تو پائی گئی ہے آج
جو حکمراں ہیں آج وہ دجال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
اِنسانیت کا درد نہ اِن میں ہے کچھ رہا
یہ خود بُھولائی دیتے ہیں اپنا کہا ہوا
احساس اِن کو قوم کا مطلق نہیں رہا
پوچھے گا روز ِحشر ضرور اِن سے کبیریا
خوش رنگ اِن کے خُوب یہاں گال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
جو غنی تھے وہ بے سروساماں ہوئے ہیں آج
اللہ جانے کتنے پریشاں ہوئے ہیں آج
زد میں تباہ کاری کی انساں ہوئے ہیں آج
جو مالدار تھے تہی داماں ہوئے ہیں آج
خوش حال لوگ سیکڑوں کنگال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
اللہ غیب سے تو مدد اِ ن کی کر ذرا
دیتے ہیں تجھ کو ذاتِ محمدﷺ کا واسطہ
ہم دست بدست کرتے ہیں تجھ سے یہی دُعا
سیلاب کی تو ذد سے مسلماں کو دے بچا
جینے کے سارے راستے محال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
یہ ا ہلِ حق کے واسطے ایک امتحان ہے
ظاہر نظر میں اُن کی تو قدرت کی شان ہے
ہر شکل یہ سمجھتے ہیں رب کی بُرہان ہے
اعظم اِسی پہ خاص ہمارا ایمان ہے
جملے یہ اپنے واسطے ایک ڈھال ہوگئے
جو تھے کبھی خوشحال وہ بد حال ہوگئے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






