وحشتوں کی جب تم اپنی، تفصیل لکھنا

Poet: تسلیم احمد دانی By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabad

وحشتوں کی جب تم اپنی، تفصیل لکھنا
بات ادھوری نہیں، ذرا تم طویل لکھنا

یہ بھی لکھنا کہ کتنے غم تیرے حصّے میں آئے
کون بنا رہا تیرے غموں کی فصیل لکھنا

یہ بھی لکھ دینا جتنی خوشیوں سے لطف آیا
کس نے کی تیری خوشیوں کی تکمیل لکھنا

مت ہچکچانہ میرے روّیہ کو لکھتے ہوئے تم
جو رہا تمہارا رویّہ وہ بھی ساری تفصیل لکھنا

یہ تو لکھ ہی دو گے کہ کس نے تیری بات رد کر دی
مگر کس نے کی ہمیشہ ہر بات کی صرف تعمیل، لکھنا

اور کم پڑ گئے گر لفظ خود پہ بیتی لکھتے ہوئے
ہے اجازت تم کو دانی کچھ میری بھی تمثیل لکھنا

Rate it:
Views: 428
02 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL