کبھی ارد،کبھی گرد، کبھی وہاں، کبھی یہاں ہوتے

Poet: تسلیم احمد دانی By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabad

کبھی ارد،کبھی گرد، کبھی وہاں، کبھی یہاں ہوتے
تمہاری یاد جو نہ ہوتی، نجانے پھر ہم کہاں ہوتے؟

ابھی اِن آنکھوں میں تم ہی دِکھتے ہو جدھر دیکھو
جو تم نہ ہوتے نگاہوں میں، پھر کیسے کیسے سماں ہوتے

میری قیمت، تمہارا پیار؟؟ اتنا قیمتی ہوں میں
کبھی نہ تم ملتے اگر ،پھر ہم بڑے ارزاں ہوتے

تم ٹہرے چاند اور ہم ٹہرے ذرّے اِس مٹی کے
تمہارے ساتھ جو رہتے، تو ہم بھی پھر آسماں ہوتے

ہمارے بس میں ہوتا تو اک پل بھی نہ ہم جدا ہوتے
جہاں تمہاری حاضری ہوتی، ہم بھی دانی وہاں ہوتے

Rate it:
Views: 551
02 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL