وفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiوفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا
ابھی تو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھوں گا
بھلے سے کچھ بھی نہ کہہ التفات پر میرے
میں تیرے چہرے پہ تیرا جواب دیکھوں گا
مجھے یقیں ہے کہ وقتِ جدائی آنے پر
میں تیرا عکس کہیں زیرِ آب دیکھوں گا
میں تیرے جذب سے خود کو نکال سکتا تھا
خبر نہیں تھی ترا اجتناب دیکھوں گا
جو خواہشوں کے سمندر میں پڑ گیا پائوں
میں اپنا آپ وہیں غرقِ آب دیکھوں گا
موازنہ کیلئے آ گیا ہوں ساحل پر
زیادہ کس میں ہے اب اضطراب دیکھوں گا
مجھے خبر ہے وہ مخلص نہیں مگر احسن
چڑھا ہوا ہے جو رخ پر نقاب دیکھوں گا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






