وقت ایسا ہے محبت کا ملا کیا کہنے
Poet: Unknown By: AB shahzad, Mailsi
وقت ایسا ہے محبت کا ملا کیا کہنے
اپنے مالوب کا دیدار ہوا کیا کہنے
تیرے آنے سے ہوئی روشنی گھر میں میرے
آئی ہے چاروں ہی اطراف ندا کیا کہنے
خوبصورت ہے حسیں پیار محبت میری
مل رہی ہے یہ نزاکت میں ادا کیا کہنے
بے وفائی نہ کرے اب کبھی ساجن میرا
کر رہے ہیں سبھی محبت میں دعا کیا کہنے
خوبصورت ہے یہ انداز بیاں لفظوں کا
آج اپنی ہی غزل کوئی سنا کیا کہنے
پاس اپنے میں رکھوں گا یہ نشانی تیری
خوبصورت ہی ترا پھول لگا کیا کہنے
دشمنی ختم ہوئی پیار چلے گا اپنا
میرا دشمن ہے ابھی دوست بنا کیا کہنے
مل رہا ہے جو حجابوں میں نہیں کوئی اور
میرا سجنا ہے حسیں دل یہ ربا کیا کہنے
کہہ دیا آج محبت ہے نہیں چھوڑوں گا
ہونے والا نہیں شہزاد جدا کیا کہنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






