وہ اپنے بھی ہوتے ہیں انجان بھی ہوتے ہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIوہ اپنے بھی ہوتے ہیں انجان بھی ہوتے ہیں
آنکھوں کی چمک دل کی جان بھی ہوتے ہیں
ابھی دیکھ کے ان کو ہم دل بہلاتے ہیں
الفت کے مراحل کچھ آسان بھی ہوتے ہیں
یہ بتاؤ کیسے ہم انہیں بات کہیں دل کی
تھوڑا ڈر بھی لگتا ہے پریشان بھی ہوتے ہیں
آداب کی زنجیریں مجھے روک کے رکھتی ہیں
چھونے کو تو پاس اپنے آسمان بھی ہوتے ہیں
ابھی پہلی منزل ہے دیکھو کیا کرتے ہیں
جب قدم اٹھاتے ہیں حیران بھی ہوتے ہیں
یہ بتاؤ الفت سے وہ کیوں پیش آئے
قربت سے جو ملتے ہیں مہمان بھی ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







