دل ہے نادان اس کو دوا دیجیے
Poet: Syed Ishtiq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIدل ہے نادان اس کو دوا دیجیے
کوئی مرض نہ ملے تو جلا دیجیے
آپ کو دیکھ کر یہ دھڑکنے لگا
میں تو بے بس ہوں اس کو سزا دیجیے
کل تلک مسکراتا تھا تمہیں دیکھ کر
آج آپ دیکھ کر مسکرا دیجیے
میں مر کر بھی تم سے نبھاتا رہوں گا
مجھ کو ایسا درس وفا دیجیے
تشنگی میں سدا ہی میں جلتا رہوں گا
جام آنکھوں کا مجھ کو پلا دیجیے
یہ میرے سامنے اگر منزل نہیں
رستہ مجھ کو نیا پھر دکھا دیجیے
اس سے پہلے کہ لوگوں میں رسوا کرے
اشتیاق راز جو بھی ہے سب کو بتا دیجیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







