وہ ایک لڑکی

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburg

اک ان چھوئی کومل سی لڑکی
میرے حسین خوابوں کا ثمر تھی
میرے ہر دکھ کو اپنا کہتی تھی
ہر زخم کا رفو بن جاتی تھی
زندگی کے کٹھن لمحوں میں
وہی تو میرا اک سہارا تھی
میرے ہر آنسو کو
پلکوں پر چن لیا کرتی تھی
اپنے زخموں کو چھپا کر
وہ ہنس بھی لیا کرتی تھی
کیسی عجیب لڑکی تھی
اک سربستہ راز تھی کہ پہیلی تھی
بوجھ نہ پایا کبھی
میری بے کیف بے رنگ زندگی میں
بہار کی مانند چھائی تھی
اس کے نین نہیں تارے تھے
جن میں جوت پیار کی جلتی تھی
رخسار نہیں انار تھے
جو پیار کے شعلوں سے دہکتے تھے
دلکشی و رعنائی کا
حسین پیکر و مجسم تھی
وہ مہ لخا وہ مہہ جبین
میری ہمسفر و ہمنشیں
وہ نازک اندام سی لڑکی
جانے کہاں کھوگئی
آج اپنی تنہائیوں کے ساتھ
بے چین و بے قرار رہتا ہوں
دنیا کی بے ثباتی کو دیکھتا ہوں
اور اکثر دل میں خیال کرتا ہوں
شاید وہ تھک گئی تھی
ہار گئی تھی
ہاں شاید دنیا سے ڈر گئی تھی
زمانے نے اسے رگید ڈالا تھا
اس کے دل کو توڑ ڈالا تھا
اور وہ یہ کیسے سہار سکتی تھی
آخر کو وہ اک کومل سی نازک سی لڑکی تھی ۔

Rate it:
Views: 1010
21 Oct, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL