وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی۔۔۔۔۔۔۔٢

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

آسمانوں سے اترتی ہوئی پاگل کرنیں
زندگی کی نوید لے کے مہکتی سانسیں
کلی کلی سے نکلتی ہوئی مہک کا سفر
حصار وقت میں پھولوں کی ریشمی بانہیں
گماں کی حدیں توڑتا ہوا احساس وجود
رخ حیات پہ بکھری ہوئی ساحر زلفیں
حسن کے جلووں سے مخمور جنبش مژگاں
چاند تاروں سی چمکتی ہوئی روشن آنکھیں

مٹھی میں ساری کائنات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی

ہوا کا خوشبوؤں کے ساتھ وہ چلتے جانا
باغ جنت سے وہ جھرنوں کا اترتے جانا
جابجا رقص سے معمور نور کے ہالے
شمع کا روشنی پھیلا کے پگھلتے جانا
گلاب لمحوں کا وہ پھیلتا ہوا جادو
دل میں انجان دھڑکنوں کا مچلتے جانا
جگنوؤں کا دمکتے چاند کے جانا صدقے
چاندنی کا وہ دریچوں سے بکھرتے جانا
ماورا ماورا سا لگنا ساری ہستی کا
آئینے کا وہ حقیقت سے مکرتے جانا

ہر گھڑی زندگی کی بات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی

Rate it:
Views: 479
19 Jun, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL