وہ بہت ہی خوبصورت ہے
Poet: Hamza Liaqat By: Hamza Liaqat, Lahoreچلو مانا یہ ہم نے وہ بہت ہی خوبصورت ہے
قیامت اس کی قامت ہے
سمندر اس کی آنکھیں ہیں
گھٹائیں اس کی پلکیں ہیں
جبیں ہے کہکشاں جیسے
نگاہیں گلستاں جیسے
بھنویں کھینچتی کمانیں ہیں
لویں ننگی سنانیں ہیں
حلاوت اس کی باتوں میں
بہاریں اس کی سانسوں میں
لبوں سے لب جو ملتے ہیں
دلوں میں پھول کھلتے ہیں
نظر میں مستیاں مئے سی
لچک ہے شاخ گل جیسی
کمر چلتے میں بل کھائے
زمیں بھی ڈگمگا جائے
چلو ہم نے یہ مانا وہ بہت ہی خوبصورت ہے
وہ نکہت ہے صباحت ہے
سخن میں ہے مسیحائی
خیالوں میں ہے رعنائی
غضب جھلمل ہے زلفوں میں
رکی ہے رات بالوں میں
وہ چلتی ہے تو سب راہیں
کُھلیں جیسے حسیں بانہیں
جھٹکتی ہے وہ جب گیسو
اتر آتی ہے شب ہر سو
وہ جب انگڑائی لیتی ہے
زمیں کو بانٹ دیتی ہے
گراتی ہے وہ جب بازو
چھڑکتا ہے بدن خوشبو
چلو یہ ہم نے مانا وہ بہت ہی خوبصورت ہے
گلابوں سی نزاکت ہے
صبا جیسی لطافت ہے
بکھرتی ہے تو عنبر ہے
سمٹتی ہے تو گہر ہے
مہکتی ہے تو سندل ہے
چھلکتی ہے تو چھاگل ہے
وہ جب بھی مسکراتی ہے
تو فطرت جھوم جاتی ہے
گھماتی ہے نگاہوں کو
تو رشک آئے ہواؤں کو
چلو یہ ہم نے مانا وہ بہت ہی خوبصورت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ وہ اب اک امانت ہے
ادائیں، حسن، زیبائی
سراپا بزم آرائی
اب اک گھر کی زینت ہے
وہی اب اس کی جنت ہے
ہماری اس سے نسبت ہے
پرستاری عقیدت کی
لکھی سطروں سے الفت کی
یہ رشتہ ہی غنیمت ہے
اسی رشتے میں طاقت ہے
کوئی جو خوبصورت ہے
اسے لفظوں کی چاہت ہے
جھکیں لفظوں پہ جب نظریں
مری سطریں اسے دیکھیں
اسے دیکھیں، اسے سوچیں
تہ دل سے گواہی دیں
یقینا خوبصورت ہے بہت ہی خوبصورت ہے
قیامت اس کی قربت ہے
چلو یہ ہم نے مانا وہ بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






