وہ تکلّفاً تھا جو کہہ دیا ترا مُدّعا کوئی اور ہے
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ, 1e Exloermondوہ تکلّفاً تھا جو کہہ دیا ترا مُدّعا کوئی اور ہے
مری رہ گزر کوئی اور تھی ترا راستہ کوئی اور ہے
سرِ حشر جا کے کروں گا کیا کہ مَیں خود سراپۂ حشر ہوں
مجھے حُور وُور نہیں چاہئے مرا دلربا کوئی اور ہے
قبلہ شیخ صاحب کی طنز کا مرے دوست کوئی نہ فکر کر
انہیں کیا خبر شبِ ہجر کی یہ معاملہ کوئی اور ہے
کبھی دن گزرتا ہے دُھوپ میں کبھی رات کٹتی ہے صبر میں
مرا چارہ گر کہیں کھو گیا مرا ناخدا کوئی اور ہے
چلے آؤ بہرِ خدا کبھی کہ طویل عرصہ گزر گیا
تمہیں کیا خبر مرے درد کی مری ابتلا کوئی اور ہے
کہیں خور و نوش کا قحط ہے کہیں قحطِ انساں کا تذکرہ
کبھی رات کٹ گئی بھوک میں کبھی بسترا کوئی اور ہے
دمِ واپسیں مرے چارہ گر مری آنکھ لگ گئی بھُوک میں
وہ جو بانٹ کھاتے تھے اور تھے ابھی قافلہ کوئی اور ہے
یہاں شیر خوار تڑپ رہے وہاں بے کفن پڑی عورتیں
اے امید حزن و ملل نہ کر یہاں ماجرا کوئی اور ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






