وہ دن نہ رہے وہ راتیں نہ رہیں
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinوہ دن نہ رہے وہ راتیں نہ رہیں وہ ہم بھی نہ رہے
احسن اب کی بار یوں ہوا کے دہلیز پے اپنی غم بھی نہ رہے
کس در سے پائیں اب روز ہجر سے نجات
اس نگری میں احسن اپنے تو ہمدم بھی نہ رہے
کیا ہوتا گر ختم حیات کے دن کچھ کم رہہ جاتے
ھائے احسن بدنصیبی یہ کے دن کم بھی نہ رہے
سبھی رونقیں چھین گیا وہ شخص میری آنکھوں سے
کے بے بسی کا یہ عالم احسن آنکھ نم بھی نہ رہے
ازالا دیا کسی کی وفا کا یوں بھی ہم نے
اپنے آپ پے احسن اپنی ذات کے کرم بھی نہ رہے
مانا کے بہشت کا حقدار نہیں ہوں احسن
مگر بندہ دیگری نہیں جو جہنم بھی نہ رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






