بات بنتی نظر نہیں آتی
Poet: Wasim Ahmad Moghal By: Wasim Ahmad Moghal, Lahoreبات بنتی نظر نہیں آتی
رات ڈھلتی نظر نہیں آتی
کتنی راتیں گزر گئیں یارو
پوہ پھٹتی نظر نہیں آتی
آج برسات بھی بِنا تیرے
مجھ کو ٹلتی نظر نہیں آتی
اُس کے در پر ہماری خوشیوں کی
بیل چڑھتی نظر نہیں آتی
ایک تصویر ہے تصور میں
دل میں سجتی نظر نہیں آتی
اب تو دل میں کسی بھی خواہش کی
شمع جلتی نظر نہیں آتی
یہ جو چھائی ہوئی ہے مایوسی
یہ بھی چھٹتی نظر نہیں آتی
نہ کوئی چاند نہ کہیں تارہ
شب یہ کٹتی نظر نہیں آتی
معجزہ دیکھئے محبت کا
عمر گھٹتی نظر نہیں آتی
دل کو کیا ہو گیا نہیں معلوم
نبض چلتی نظر نہیں آتی
اُس کے چہرے سے کیوں نظر کوئی
مجھ کو ہٹتی نظر نہیں آتی
جو بھی ممکن تھا کر لیا میں نے
دال گلتی نظر نہیں آتی
کب سے بیٹھا ہوں اُس کے در پہ مگر
تالی بجتی نظر نہیں آتی
اُس کی یادوں کے رتجگے میں وسیم
آنکھ لگتی نظر نہیں آتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






