وہ شام ڈھلتے ہی سارے کفن میں لوٹ آئے

Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USA

یہ کیسی چال میں اور بانکپن میں لوٹ آئے
تمام زخمی عجب خستہ تن میں لوٹ آئَے

جو صبح "علم گھر" اطفال ِ خوش لباس گئے
وہ شام ڈھلتے ہی سارے کفن میں لوٹ آئے

فرات ِعلم کو دیکھا حصار ِ حُرمل میں
سو پیاس اپنی چھپا کر دَہَن میں لوٹ آئَے

دعائیں کرتی رہیں واں ، کھڑی کئی مائیں
کہ روح بچوں کی شاید بَدَن میں لوٹ آئَے

حِرا کی روشنی تو لامکاں سے ہو آئی
جو شب پسند تھے طرزِ کُہَن میں لوٹ آئے

ہر ایک لاش یہ بچے کی کہہ رہی تھی وطن
"عدم" کی راہ سے ہم تو "عدن" میں لوٹ آئے

دعا لبوں پہ ہراک ہموطن کے ہے مفتی
بہار روٹھی ہوئی پھر چمن میں لوٹ آئے
 

Rate it:
Views: 344
14 May, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL