وہ شحص میرے خوابوں کی تعبیر کی طرح تھا
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATوہ وقت اور تقدیر سے..... لڑتا ہوا شخص...
مرے ہاتھوں کی مٹی ہوئی لکیر کی طرح تھا
اسکو دیکھتے ہی لبوں پر دعائیں آتی تھیں
وہ شحص دعاوں میں تاسیر کی طرح تھا
میرے دل کی سلطنت کا بادشاہ تھا وہ..
بظاہر وہ اجرے ہوئے فقیر کی طرح تھا...
اسے دیکھ کر زندگی کے سب عنوان بدل جاتے تھے
وہ شخص میرے جذبات کی تسخیر کی طرح تھا
مین اسکو دیکھ کر نظریں جھکائے رکھتا تھا
وہ شحص میرے لیے میری توقیر کی طرح تھا
جب بھی ملتا تھا وہ مجھ سے تو حق جتلاتا تھا
میں اسکے لیے.... اسکی.. جاگیر کی طرح تھا
اسکی باتوں میں مرے دل کے سبھی الفاظ بسے تھے
وہ شحص.... میری خاموشی کی تفسیر کی طرح تھا.
اسے دیکھ کے لگتا تھا ........ میں مکمل ہوں....
وہ شحص میرے خوابوں کی تعبیر کی طرح تھا
اسے دیکھ کر ایک عجب تسلی سی ملا کرتی تھی
وہ وقتِ سحر کے سماء کی تصویر کی طرح تھا
اسے ملتے ہی مسافر میں سب بھول جاتا تھا
وہ شخص مری سوچوں کی تاخیر کی طرح تھا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






