وہ شحص میرے خوابوں کی تعبیر کی طرح تھا

Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRAT

وہ وقت اور تقدیر سے..... لڑتا ہوا شخص...
مرے ہاتھوں کی مٹی ہوئی لکیر کی طرح تھا

اسکو دیکھتے ہی لبوں پر دعائیں آتی تھیں
وہ شحص دعاوں میں تاسیر کی طرح تھا

میرے دل کی سلطنت کا بادشاہ تھا وہ..
بظاہر وہ اجرے ہوئے فقیر کی طرح تھا...

اسے دیکھ کر زندگی کے سب عنوان بدل جاتے تھے
وہ شخص میرے جذبات کی تسخیر کی طرح تھا

مین اسکو دیکھ کر نظریں جھکائے رکھتا تھا
وہ شحص میرے لیے میری توقیر کی طرح تھا

جب بھی ملتا تھا وہ مجھ سے تو حق جتلاتا تھا
میں اسکے لیے.... اسکی.. جاگیر کی طرح تھا

اسکی باتوں میں مرے دل کے سبھی الفاظ بسے تھے
وہ شحص.... میری خاموشی کی تفسیر کی طرح تھا.

اسے دیکھ کے لگتا تھا ........ میں مکمل ہوں....
وہ شحص میرے خوابوں کی تعبیر کی طرح تھا

اسے دیکھ کر ایک عجب تسلی سی ملا کرتی تھی
وہ وقتِ سحر کے سماء کی تصویر کی طرح تھا

اسے ملتے ہی مسافر میں سب بھول جاتا تھا
وہ شخص مری سوچوں کی تاخیر کی طرح تھا

Rate it:
Views: 623
03 Apr, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL