وہ عشق ہم سے روٹھ گیا

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabad

وہ عشق ہم سے روٹھ گیا
زندگی کا سہارا چھوٹ گیا
بے مول کے جذبوں سے
دو پل کی محبتوں سے
دامن میرا لٹ گیا
عشق ہم سے     

چاند نگر کی ملاقاتوں سے
ستاروں کی راتوں سے
تعلق میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے      

بے ساز ہواؤں سے
گلناز صداؤں سے
بے وجہ سنگھار سے
دل بیقرار سے
ناطہ میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے    
شام کی اداس دہلیز سے
لدت محبت کی لذیذ سے
بے رنگ آنکھوں سے
تڑپتی سانسوں سے
جذبوں کی سفاکی سے
چاہتوں کی خاکی سے
دل میرا ٹوٹ گیا
عشق ہم سے روٹھ گیا

پرندوں کی چالوں سے
جنگلوں کے جالوں
آشیانہ میرا لوٹ گیا
عشق ہم سے روٹھ گیا

لاحاصل محبت سے
پامال عزت سے

پریوں کی وادی سے
کھلونوں کی شادی سے
بچپن میرا روٹھ گیا

وہ عشق ہم سے روٹھ گیا
ذندگی کا سہارا چھوٹ گیا

Rate it:
Views: 509
23 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL