وہ مرے پیار کا عنوان بھی ہو سکتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Makatiوہ مرے پیار کا عنوان بھی ہو سکتا ہے
کوئی پتھر یہاں "مرجان" بھی ہو سکتا ہے
میرے اس شعر کو اک پھول سمجھ کر رکھ لو
آپ کے نام تو دیوان بھی ہوسکتا ہے
جس نے اس شہر محبت پہ قیامت ڈھا دیکب یہ سوچا تھا
کہ انسان بھی ہو سکتا ہے
اس نے جو درد کی دولت ہے عطا کی مجھ کو
غم بھلانے کا یہ سامان بھی ہو سکتا ہے
میری آنکھوں کے دریچوں کو نہ کھولو ورنہ
یہاں میخانے میں نقصان بھی ہو سکتا ہے
حاکمِ شہر سے کہہ دو کہ نہ توڑے رسمیں
ورنہ یہ شہر تو ویران بھی ہو سکتا ہے
میں نے سوچا تھا سدا مل کے کراچی رہنا
تری چاہت میں تو "ملتان" بھی ہو سکتا ہے
تُو نے گلشن سے تو مانگے ہیں کئی پھول مگر
وشمہ تقدیر میں گلدان بھی ہو سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






