وہ مست آنکھوں سے مجھ کو پلا رہا تھا بہت
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanوہ مست آنکھوں سے مجھ کو پلا رہا تھا بہت
نشہ تھا ایسا کہ چڑھتا ہی جا رہا تھا بہت
تھیں گرم سانسیں، بہکنے لگی تھی تنہائی
قریب حسن کا جادو بھی آ رہا تھا بہت
مہک رہے تھےمری روح میں گلاب کئی
وہ اپنی سانسوں کی خوشبو لٹا رہا تھا بہت
چمک رہے تھے ستارے ، تھی چاندنی پھیلی
فضا کا حسن بھی آنکھوں پہ چھا رہا تھا بہت
محبتوں کی بھی سرگوشیاں تھیں کانوں میں
سماں بھی پیار کے نغمے سنا رہا تھا بہت
تھی حسن و عشق کے لمحوں کی اک حرارت بھی
رگوں میں خون بھی شعلے جلا رہا تھا بہت
وہ اس کا پیار سے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ دینا
جوں امنگیں بھی دل میں جگا رہا تھا بہت
مرے بدن پہ حسیں چاند جھک کے شرمایا
محبتوں کی وہ کرنیں لٹا رہا تھا بہت
کیے تھے عہد و پیماں ساتھ جینے مرنے کے
یقین وقت بھی ہم کو دلا رہا تھا بہت
سماں وہ پیار کا جانے کہاں ہے اب زاہد
ہر ایک درد جو دل سے مٹا رہا تھا بہت
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






