وہ ملاقات آخری ہائے!

Poet: Zeeshan lashari By: Zeeshan Lashari, Kunri

اس کی شوخی میں سادگی بھی تھی
اور اداؤں میں دلکشی بھی تھی

اس کے آنے سے گھر منور تھا
لوگ کہتے ہیں چاندنی بھی تھی

دل یہ کہتا ہے مجھ سے رو رو کر
وہ جو پہلی تھی آخری بھی تھی

داد تو دو کہ ہم کو ظالم سے
واسطہ تھا ہی دل لگی بھی تھی

دل نے اس بار آہ کیوں نہ کی
آنکھ ان سے مری لڑی بھی تھی

وہ ملاقات آخری ہائے
ہنستے ہنستے وہ رو پڑی بھی تھی

ہر ادا اس کی یاد ہے ہم کو
وہ جو سادہ تھی چنچلی بھی تھی

ہم نے ڈر ڈر کے کہہ دیا آخر
بات مشکل تھی لازمی بھی تھی

وہ جسے شعر سے شغف نہ تھا
ایک شاعر کی شاعری بھی تھی

اب تو گویا کہ مر گیا ہوں میں
ساتھ وہ تھی تو زندگی بھی تھی

آج بلبل جسے تو روندے ہے
یہ جو خس ہے کبھی کلی بھی تھی

ضعف شمع پہ طنز کرتے ہو
شام سے تا سحر جلی بھی تھی

وہ بچھڑنے کی بات پر مجھ سے
شانؔ کئی بار تو لڑی بھی تھی

Rate it:
Views: 1841
19 Oct, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL