وہ میری ہر بات بڑےدھیان سےسنتا ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamوہ میری ہر بات بڑے دھیان سے سنتاہے
کبھی دل سےکبھی کان سےسنتاہے
لوگ پاس رہ کربھی بات کاجواب نہیں دیتے
میرا خدا میری ہر بات آسماں سےسنتاہے
باد صبا تواس کا کوئی پیغام لاتی نہیں
اس کا حال دل اصغرابررواں سےسنتاہے
ہماری ہر بات کی خبرزمانےکوہوجاتی ہے
کوئی توہےجو ہماری گفتگودرمیاں سےسنتاہے
دولت والوں کی ہر بات لوگ غورسےسنتےہیں
یہاں کون اصغر جیسےحال پریشاں سےسنتاہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






