نو لفٹ ہے بڑی مغرور نازنینا ہو ( دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
----------
بہت حسین ہو کافر ادا حسینہ ہو
نو لفٹ ہے بڑی مغرور نازنینا ہو
یہ کالے شیشوں کی عینک اتار دو تو ذرا
یہ غصہ چھوڑ کے تھوڑا سا مسکراؤ ذرا
ہو گرم جیسے مئی، جون کا مہینہ ہو
نو لفٹ ہے بڑی مغرور نازنینا ہو
میں اپنے آپ سے انجان ہو نہ جاؤں کہیں
تمھارے حسن پہ قربان ہو نہ جاؤں کہیں
یہ لگ رہا ہے چمکتا ہوا نگینہ ہو
نو لفٹ ہے بڑی مغرور نازنینا ہو
لڑکی
------------
ذرا تو جینے کا انسان کو قرینہ ہو
تمھارے جیسا تو کوئی بھی آدمی نہ ہو
ہیں ہاتھ سخت بہت ان کو میں چلاؤں گی
تمھاری دیکھنا حالت میں کیا بناؤں گی
کروں گی وہ جو کبھی بھی کسی نے کی نہ ہو
تمھارے جیسا تو کوئی بھی آدمی نہ ہو
چلاؤ کوئی بھی چکر یہ ہو نہیں سکتا
تمھارے پیار میں دل میرا کھو نہیں سکتا
کہیں جہان میں مشکل نہ میرا جینا ہو
تمھارے جیسا تو کوئی بھی آدمی نہ ہو
ذرا تو جینے کا انسان کو قرینہ ہو
تمھارے جیسا تو کوئی بھی آدمی نہ ہو
لڑکا
-------
بہت حسین ہو کافر ادا حسینہ ہو
نو لفٹ ہے بڑی مغرور تم نازنینا ہو
لڑکی
--------
ذرا تو جینے کا انسان کو قرینہ ہو
تمھارے جیسا تو کوئی بھی آدمی نہ ہو
لڑکا
---------
ہنہ ہنہ ہنہ ہنہ آہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
لا لا لا لا لا لا لا لا لا لا لا لا لا لا
لڑکی
----------
زو زو زو زو زو زو زو زو زو زو زو زو زو زو
ہنہ ہنہ ہنہ ہنہ آہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






