وہ کون ہے جو زندگی کو ایک جیسا بنائے بیٹھا

Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithi

وہ کون ہے جو زندگی کو ایک جیسا بنائے بیٹھا
وہ کون ہے جو شاعری کو پیشہ بنائے بیٹھا

کہیں جہاں کی بے وفائی تحریر ہو جاتی ہے
کبھی میری جفائی بھی تقریر بن جاتی ہے
بس نیندیں اڑتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کبھی الجھنیں بڑھتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کوئی سرگردان جو دھڑکنوں کو رعشہ بنائے بیٹھا

یہ حرف کہیں حجتوں سے رہائی نہیں کرتے
اپنے ظرف کسی کی چشم نمائی نہیں کرتے
کچھ مُرادیں سلگتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
یا یادیں کروٹ بدلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کوئی عاجز حال زار کو وئشیہ بنائے بیٹھا

کچھ خلشیں قلم کی نوک کو مجبور کرتی ہیں
آئے دن سوچیں ہر سوچ کو مغرور کرتی ہیں
ہاں یہ راحتیں ڈھلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
یا تیری چاہتیں بدلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
سنتوشؔ تُو بلاوجہ دل کو سیشہ بنائے بیٹھا

 

Rate it:
Views: 438
06 Feb, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL