وہی ہوا ناں؟ جس کا ڈر تھا

Poet: ارسلان حُسین By: Arsalan Hussain, Dubai

وہی ہوا ناں؟
لوگوں کی باتوں میں آ کر تم نے
دردِ دل کا روگ پالا
خود سے وآبسطہ خواہشوں کا
پَل میں گَلا گھونٹ ڈالا
کسے خبر تھی وفا کے رستے چلتے چلتے
خوشی کے پیروں پر ابلوں کا نشاں بھی ہوگا
محبتوں کی سلیب پر نفرتوں کا یہ المیہ بھی ہوگا
غرض یہ کہ
تم خفا ہو ، تم جدا ہو ، اور بے وجہ ہو
غرض یہ کہ
میں جفا ہوں ، بددعا ہوں ، اور بے وفا ہوں
جو میرے بس میں ہو اگر تو
تمھاری خاطر میں اپنی آنکھوں سے خون رو لوں
عزیز رکھوں تمھارے غم کو اِک لمبی عمر کی نیند سو لوں
جو تم کہو تو رتجگوں کے عذاب سہہ لوں اور کچھ نہ بولوں
مگر خلش ہے یہ مجھکو جاناں
کہا تھا میں نے
خزاں کا موسم قریب تر ہے
ہوا کے جھونکوں سے بچ کر رہنا
مگر بدگمانی کی حد یہ ہے
تم نے مجھ کو ہی غلط جانا
وہی ہوا ناں؟
جس کا ڈر تھا

Rate it:
Views: 917
24 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL