وہی ہوا ناں؟ جس کا ڈر تھا
Poet: ارسلان حُسین By: Arsalan Hussain, Dubaiوہی ہوا ناں؟
لوگوں کی باتوں میں آ کر تم نے
دردِ دل کا روگ پالا
خود سے وآبسطہ خواہشوں کا
پَل میں گَلا گھونٹ ڈالا
کسے خبر تھی وفا کے رستے چلتے چلتے
خوشی کے پیروں پر ابلوں کا نشاں بھی ہوگا
محبتوں کی سلیب پر نفرتوں کا یہ المیہ بھی ہوگا
غرض یہ کہ
تم خفا ہو ، تم جدا ہو ، اور بے وجہ ہو
غرض یہ کہ
میں جفا ہوں ، بددعا ہوں ، اور بے وفا ہوں
جو میرے بس میں ہو اگر تو
تمھاری خاطر میں اپنی آنکھوں سے خون رو لوں
عزیز رکھوں تمھارے غم کو اِک لمبی عمر کی نیند سو لوں
جو تم کہو تو رتجگوں کے عذاب سہہ لوں اور کچھ نہ بولوں
مگر خلش ہے یہ مجھکو جاناں
کہا تھا میں نے
خزاں کا موسم قریب تر ہے
ہوا کے جھونکوں سے بچ کر رہنا
مگر بدگمانی کی حد یہ ہے
تم نے مجھ کو ہی غلط جانا
وہی ہوا ناں؟
جس کا ڈر تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







