چلا آئے گا یوں وہ گلاب آُٹھائے

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

چلا آئے گا یوں وہ گلاب اُٹھائے
کہ ہوں گے سنگ سنگ عذاب اُٹھائے

اور دے دے گا ہاتھوں ہاتھ مجھے
آنکھوں میں حسیں خواب اُٹھائے

کھینچ لی اُس نے پیروں سے زمیں
پھول تھے میں نے بے حساب اُٹھائے

شاید کبھی ڈوب جائے نظروں میں
ہیں آنکھوں میں مسلسل آب اُٹھائے

نہ سوچا تھا جو حالِ اخیر کبھی
نہ سوچ کر ہی ظلم واضطراب اُٹھائے

ہوں ہزاروں دل والے‘ہمت والا وہی
جو لاکھوں میں حسن و شباب اُٹھائے

ہوتا ہی نہیں حکمران دماغ دل پہ کبھی
ورنہ کیوں نہ کوئی پے در پے ثواب اُٹھائے

تجھ سے کیا چھپانا‘ اے تحریرِ دِل
چلا آئے گا لفظوں میں شراب اُٹھائے

ہم چاہیں اک عمر کا رونا اُس آنکھ میں
کہ پچھتائے وہ جب بھی میری کتاب اُٹھائے

Rate it:
Views: 883
23 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL