پاؤں بندھے سنگل سے
Poet: UA By: UA, Lahoreراستہ روکتے ہیں پاؤں بندھے سنگل سے
بڑا دشوار سفر ہو گیا ہے جنگل سے
جنون و جستجو میں خاک چھانتی پھرتی
گزر رہی ہوں میں تنہائیوں کے جنگل سے
ہواؤں سے گھٹاؤں سے بہار سے پوچھا
پتہ لیا ہے میں نے تیرے در کا بادل سے
دیوانہ وار تجھے ہم نے ایسے چاہا ہے
ہم خود سے جدا ہو کہ ہوئے پاگل سے
کہیں کا پانی مجھے اب نہ راس آئے گا
پیا تھا پانی بس اک بار تیری چھاگل سے
مہندی چوڑی اور میرے کنگن سے
تمہارے نام کی آئے گی صدا پائل سے
تیری جدائی نے کیسے نڈھال کر ڈالا
آکے دیکھ ذرا ہو گئے ہم گھائل سے
جہاں بھی جاؤ وہیں اسکا ساتھ پاؤ گے
بندھا تمہارا مقدر کسی کے آنچل سے
کسی کے دل پہ لکھا نام مٹ نہیں سکتا
جو نام لکھ دیا جائے وفا کے کاجل سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






