چہرہ
Poet: AS Khan By: Adil Salar, karachiکوئی دُھندلہ سا ایک چہرہ میری آنکھوں میں رہتا ہے
کوئی بھٹکتا سا ایک جُگنو میرے خوابوں میں رہتا ہے
ایک مانُوس سی آواز مجھے سونے نہیں دیتی
کوئی اُلجھا سا ایک جُملہ میری یادوں میں رہتا ہے
مجھے خود پر نہیں قابو نہ میں کچھ کہہ سکتا ہوں
اثر یہ کس کے لفظوں کا میری باتوں میں رہتا ہے
دسمبر کی خُنک راتیں مجھے بہت بے چین رکھتی ہیں
لمس ایک ہاتھ کا اب تک میری سوچوں میں رہتا ہے
ہے دل بھی مضطرب احساس بھی سوچوں کی اُلجھن بھی
یہ کس کی آنکھ کا آنسو میری آنکھوں میں رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






