پائوں کانٹوں پے رکھ کے چلتا رہا ایک دیوانہ زہن میں رہا

Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badin

ﭘﺎؤﮞ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﭘﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﯾﮏ
ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﮦ
ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﻣﻨﺘﻈﺮ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺬﺭﺍ ﻣﻘﺪﺱ
ﺟﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺬﺭﺍ، ﻣﮕﺮ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ
ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻟﺠﮫ ﺳﮑﺎ ﻣﺌﺨﺎﻧﮧ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺍﺋﻮﮞ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ
ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺟﮕﺎﻧﮧ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﺫﮨﻦ ﻧﺸﯿﮟ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮧ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﻟﻤﺤﺎ ﻣﯿﺮﯼ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺅ ﮐﺮ
ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺮﺩﯾﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﮨﻮﺍ
ﮐﯽ ﺩﺳﺘﮏ ﭘﮯ، ﺩﻭﮌ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﺍ ﮐﮭﻮﻻ
ﺗﯿﺮﺍ ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﺩﺭﺩ ﺍﺣﺴﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ
ﺑﮩﺖ، ﮐﻤﺒﺨﺖ ﻭﻗﺖ ﺁﺧﺮ ﻭﺻﻞ ﭘﺌﻤﺎﻧﮧ
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
 

Rate it:
Views: 740
24 Sep, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL