پالے تھے جو آنکھوں میں سپنے بکھر گئے
Poet: Frehman By: frehman, Dubaiپالے تھے جو آنکھوں میں سپنے بکھر گئے
دل یوں ٹوٹا کہ ہر سُو ٹکڑے بکھر گئے
قلب و نظر کے حوصلوں پہ ہمیں ناز تھا بہت
دیکھا جو اُن کا جلوہ تو بے موت مر گئے
ساقی تیرے میخانے کا عجب نظام دیکھا
رند آئے کئی تو کئی گُزر گئے
ہر پل تیری جدائی کا غم دل میں رہتا ہے مگر
ہم کیسے سخت جاں ہیں کہ اب تک نہ مر گئے
اپنے تومقدر میں تنہائیوں کے روز و شب رہے فضل
اچھا ہوا رقیب کے تو دن سنور گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






