پایا جاتا نہِیں

Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, کوئٹہ

جگایا جاتا نہِیں ہے سُلایا جاتا نہِیں
چِمٹ گیا کوئی آسیب، سایہ جاتا نہِیں

ہمارے دِل کو بسانے کی آرزُو ہے تُمہیں
مکان ہے یہ، مکاں کو سجایا جاتا نہِیں

ہمارا گھر ہے کوئی مُشتری سِتارہ کیا؟
ہے دو قدم پہ مگر تُم سے آیا جاتا نہِیں

فقط ہے دعویٰ، حقِیقت میں سب ہے مکر و فریب
خلُوص نام کو دُنیا میں پایا جاتا نہِیں

اُسی کے سائے سے محظُوظ ہونا چاہتے ہیں
وہ ایک پیڑ جو ہم سے لگایا جاتا نہِیں

جو اہلِ ظرف ہیں وہ لاج رکھنا جانتے ہیں
تماشہ یُوں سرِ محفل بنایا جاتا نہِیں

ہمیں بھی عہدِ محبّت سے اب رِہائی مِلے
وفا ہے بار سو ہم سے اُٹھایا جاتا نہِیں

لگایا جائے جو اِنسان کی بقا کے لِیئے
بھلے ہو کم ہی مگر وقت ضایا جاتا نہِیں

رشِیدؔ بعد کے جھنجھٹ سے کیا ہی بہتر تھا
کِسی کے ہاتھ میں دامن تھمایا جاتا نہِیں

Rate it:
Views: 288
19 Jul, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL