ہماری عقل تو دیکھو کہ کیا تلاش کریں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

ہماری عقل تو دیکھو کہ کیا تلاش کریں
جفا کا شہر ہے پھر بھی وفا تلاش کریں

یوں اپنے حال پہ رونے سے کچھ نہیں حاصل
لگی ہے کس کی ہمیں بدعا تلاش کریں

ہم اپنا دیدۂ بینا پہن کے نکلے ہیں
سڑک کے بیچ کوئی حادثہ تلاش کریں

ہمارے پاؤں سے لپٹی ہوئی قیامت ہے
قدم قدم پہ کسی کی دعا تلاش کریں

ہم اپنی منزلِ مقصود پر رکیں جاکر
جناب ایسا کوئی راستہ تلاش کریں

جو گونجتی ہے ہمشہ ہمارے کانوں میں
وہ آ رہی کہاں سے صدا تلاش کریں

جہاں سکون سے "وشمہ" ہو زندگی کا گزر
کوئی جہاں میں ایسی فضا تلاش کریں

Rate it:
Views: 331
17 Jul, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL