پتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: آکاش سحر, Kohaat

پتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے
میں ڈوبا کسی کو بچاتے بچاتے

دکھاؤ نہ استادیاں اس کو صاحب
کٹی عمر جس کی سکھاتے سکھاتے

وہ اب چھینتے ہیں نوالے ہمارے
جِنھیں اپنے ہاتھوں سے ہم تھے کھلاتے

وہ گم نامیوں میں کہیں کھو گیا ہے
کبھی لوگ جس کے طَبَل تھے بجاتے

میرا نام بھی وہ لبوں پر نہ لائے
جو شام و سحر تھے مرے گیت گاتے

وہ اب ہم سے نا آشنا ہو گئے ہیں
جو پلکوں پہ اپنی ہمیں تھے بٹھاتے

جھڑی ایک لگ جاتی ہے آنسوؤں کی
ترے خط ہمیشہ جلاتے جلاتے

اسے پاؤں پڑ کے منا لیتا میں بھی
اگر دیکھتا مڑ کے وہ جاتے جاتے

جسے روٹھنا ہے وہ اب روٹھ جائے
کہ میں تھک گیا ہوں مناتے مناتے

لگا بیٹھا نِسیان کا روگ دیپک
مسیحا کو اپنے بھلاتے بھلاتے

Rate it:
Views: 299
22 Oct, 2024
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL