پرانا قرض تھا میں آج وہ چکا لایا
Poet: By: AB shahzad, Mailsiپرانا قرض تھا میں آج وہ چکا لایا
میں اپنی جان کو دشمن سے ہی بچا لایا
گیا تھا روٹھ مرا سجنا اس لیے ہی تو
میں ایک اور نیا یار ہی بنا لایا
مرے نصیب میں کوئی لکھی خوشی تھی نہیں
خرید اپنے لیے خود ہی میں سزا لایا
رموز تھا وہ محبت کی دور کیوں رہتا
گیا تھا روٹھ مر ا یار تو منا لایا
تھی آرزو مرے دل میں نہ ہوئی پوری وہ
میں ہجر کرب بلا وصل غم اٹھا لایا
غزل
پرانا قرض تھا میں آج وہ چکا لایا
میں اپنی جان کو دشمن سے ہی بچا لایا
گیا تھا روٹھ مرا سجنا اس لیے ہی تو
میں ایک اور نیا یار ہی بنا لایا
مرے نصیب میں کوئی لکھی خوشی تھی نہیں
خرید اپنے لیے خود ہی میں سزا لایا
رموز تھا وہ محبت کی دور کیوں رہتا
گیا تھا روٹھ مر ا یار تو منا لایا
تھی آرزو مرے دل میں نہ ہوئی پوری وہ
میں ہجر کرب بلا وصل غم اٹھا لایا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






