پردیسیا گھر لوٹ آؤ

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston

پیاسی دھرتی کو جب اگنی لاگے
پھر آۓ کالی بدلی آسماں پہ برسنے کو

پیڑ پے انبہ کی بہار جب چھا نے لگے
پھرآۓ کویئل بھی بغیا میں گنگنا نے کو

گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ

بدلی کی اوٹ سے چاند جب شرمانے لگے
پھیلی فلک پے تاروں کی چنریا سجنے کو

دھیرے دھیرے رات کا کاجل بڑھنے لگے
یادوں کے جگنو جگ مگ آۓ چمکنے کو

گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ

فاصلے وفا میں جب یوں بڑھنے لگے
بھر آۓ اکھیوں میں آنسو یوں سے برسنےکو

لگے اکھیوں میں دیپ پیار کے جلنے کو
لگے منزل کی جانب جب پنچھی اڑنے کو

گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ

Rate it:
Views: 1136
13 Dec, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL