پردیسیا گھر لوٹ آؤ
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonپیاسی دھرتی کو جب اگنی لاگے
پھر آۓ کالی بدلی آسماں پہ برسنے کو
پیڑ پے انبہ کی بہار جب چھا نے لگے
پھرآۓ کویئل بھی بغیا میں گنگنا نے کو
گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ
بدلی کی اوٹ سے چاند جب شرمانے لگے
پھیلی فلک پے تاروں کی چنریا سجنے کو
دھیرے دھیرے رات کا کاجل بڑھنے لگے
یادوں کے جگنو جگ مگ آۓ چمکنے کو
گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ
فاصلے وفا میں جب یوں بڑھنے لگے
بھر آۓ اکھیوں میں آنسو یوں سے برسنےکو
لگے اکھیوں میں دیپ پیار کے جلنے کو
لگے منزل کی جانب جب پنچھی اڑنے کو
گھر لوٹ آؤ ایسے میں پیا گھر لوٹ آؤ
پردیسیا گھر لوٹ آؤ ماہیا گھر لوٹ آؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






