پنی پلکوں پہ مری یاد کے دیپک رکھے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

اس قیامت کی خموشی میں صدا دے کوئی
غم کے ماروں کو نئے خواب دکھا ہی نہ سکے

سوچتی ہوں ترے بارے تو تڑپ اٹھتی ہوں
میری سوچوں کو سمندر میں بہا ہی نہ سکے

اپنی پلکوں پہ مری یاد کے دیپک رکھے
اشک بہتے ہی ہیں یہ آنسوبچا ہی نہ سکے

جب تری آنکھ میں سنسان سی اک شام اترے
اس قیامت کی خموشی میں صدا ہی نہ سکے

ڈھونڈتی ہے ترے قدموں کو مری تنہائی
ایک بے لوث سی چاہت کو بھلا ہی نہ سکے

زندگی تیری حقیقت کو میں سمجھوں کیسے
ان غضب ناک فضا کو بجھا ہی نہ سکے

قتل بھی دن کے اجالے میں کیا تم نے مجھے
اب یہ کہتے ہو مری لاش اٹھا ہی نہ سکے

یہ مجھے دیکھنے دیتا ہی نہیں اور طرف
میری آنکھوں سے ترا عکس مٹا ہی نہ سکے

اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو چھپا کر وشمہ
تیری یادوں کی اذیت کو اٹھا ہی نہ سکے

Rate it:
Views: 514
29 Apr, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL