پوچھتے ہو تم کے محبت کیسی ہونی چاھیے
Poet: Dr. Muskaan Memon By: Unknown, Karachiپوچھتے ہو تم کے محبت کیسی ہونی چاھیے
میں بتاتی ہوں تمہیں کے کیسی ہونی چاھیے
بھت ہی ساف بھت ہی پاک ہونی چاھیے
جیسی کسی نے کسی سے نا کی ہو
ویسی ہونی چاھیے
آسمان کے بلکل اس چاند کی طرح ہونی چاھیے
بلکل راج ہنس اور البتروس کی طرح ہونی چاھیے
ہر بیرے خیال سے وہ آزاد ہونی چاھیے
نیت ساف اور نیک ارادوں سے بھرپور ہونی چاھیے
ان پاکیزہ سے سجدوں کی طرح ہونی چاھیے
جس کو مانگا جائے خدا سے اور خد بھی راضی ہوجائے
بلکل ویسی ہونی چاھیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






