تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا

Poet: سید نیر مقیت By: Syed Abdu Muqeet, Karachi

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا

ُاُس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا
وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا

وہ جو تھا پیکر میرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں
کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا

جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا
کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا

آگئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے ایک کشش
ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا

میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے
قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا

سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا
ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیفِ نفسانی ہوا

حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے
میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا

اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں
کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا

Rate it:
Views: 148
30 Jan, 2026
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL