تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا

Poet: سید نیر مقیت By: Syed Abdu Muqeet, Karachi

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا

ُاُس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا
وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا

وہ جو تھا پیکر میرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں
کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا

جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا
کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا

آگئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے ایک کشش
ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا

میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے
قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا

سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا
ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیفِ نفسانی ہوا

حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے
میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا

اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں
کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا

Rate it:
Views: 163
30 Jan, 2026
More Love / Romantic Poetry