پُھولوں کی زباں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

جانتا کوئی نہِیں آج اصُولوں کی زباں
کاش آ جائے ہمیں بولنا پُھولوں کی زباں

موسمِ گُل ہے کِھلے آپ کی خُوشبُو کے گُلاب
بولنا آ کے ذرا پِھر سے وہ جُھولوں کی زباں

یہ رویّہ بھی ہمیں شہر کے لوگو سے مِلا
پُھول کے مُنہ میں رکھی آج ببُولوں کی زباں

آپ نے سمجھا ہمیں غم کا تدارُک بھی کیا
جانتا کون بھلا ہم سے فضُولوں کی زباں

بے وجہ غرق کوئی ایک بھی اُمّت نہ ہُوئی
ڈالتے پُشت پہ جب لوگ رسُولوں کی زباں

ہم نے مانا کہ اُسے پِھر بھی بنے رہنا تھا
کاٹتی دِل کو مگر درد شمُولوں کی زباں

آج حسرت سے ہر اِک دُور نِکل بھاگے ہے
کیا ہُؤا؟ بولتا ہے کیا یہ بگُولوں کی زباں

Rate it:
Views: 377
06 Jul, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL