پھر بھی لب مل لئے رخسار سے تدبیر کے ساتھ
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAپا بہ زنجیر ہوئے زلف گرہ گیر کے ساتھ
پھر بھی لب مل لئے رخسار سے تدبیر کے ساتھ
ہمکو قرآن کی آیات نے رہ دکھلائی
جب بھی بھٹکے کسی لکھی ہوئی تفسیر کے ساتھ
دل کی دھڑکن نے ترے نام کی تسبیح پڑھی
زخم دیرینہ کی چھننے لگی تاثیر کے ساتھ
ایک سے ایک جو شہکار ہوئے دیکھ لئے
کوئی تصویر نہ ٹھہری تری تصویر کے ساتھ
نیند میٹھی تھی مگر خواب ذرا ترش رہا
اس لئے ہم نے بگاڑی نہیں تعبیر کے ساتھ
سننے والوں پہ اثر اور بھی گہرا ہوتا
ساتھ چہرہ بھی جو دیتا تری تقریر کے ساتھ
عرش والوں نے بھی فریاد سنی جیسے ہی
صبح کی تال ملی نالہ ء شب گیر کے ساتھ
دیر کے کام تھے عجلت میں جو کرنا چاہے
جلدی جلدی میں بھی پہنچے بڑی تاخیر کے ساتھ
بن گیا مصحف آیات محبت جاناں
اپنی تحریرجورکھی تری تحریر کے ساتھ
ہم کو بھی دیکھنا تھا نور محمد مفتی
آگئے دنیا میں ہم خوبی ء تقصیر کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






