پھر بھی کہتی ہو میں تنہا ہوں
Poet: Badar Naseer By: Badar Naseer, lalamusaتیر ی آنکھوں س گرتا ہر آنسو میر ے لیے
تیری زباں سے نکلتا ہر الفا ظ میرے لیے
تیری بے تا بی ہے جو میں ہوں
پھر بھر بھی کہتی ہو ہیں تنہا ہوں
تیری زلفوں کے سائے میں
تیر ی نکلتی ہر آہوں میں
تیر ے چہر ے کی مسکان ہوں
پھر بھی کہتی ہو میں تنہا ہوں
تم دن رات مجھے یاد کرتی ہو
تم میر ے ویراں دل کا گلشن ہو
تیرے جسم کی جا ن ہوں
پھر بھی کہتی ہو میں تنہا ہوں
اپنی زندگی کا حق دیا ہےتم نے جسے
تمہیں ملنے کی آرزو اور امید ہے جسے
تیر ے بہتے ہو ئے غموں کا دریا ہوں
پھر بھی کہتی ہو میں تنہا ہو ں
گلشن میں جا کر دیکھو
پھو لو ں کو سو نگ کر دیکھو
خو شبو جو آئے میں ہو ں
پھر بھی کہتی ہو میں تنہا ہو ں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






