کیا بتائیں زندگی کیسے رواں دواں ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadکیا بتائیں زندگی کیسے رواں دواں ہے
لہروں کی آغوش ہےاور بحرِ بےکراں ہے
اِک ہجوم میں رہتا ہوں، مگر تنہا ہوں
فصلِ گل میں بھی گُلشن پہ خزاں ہے
بات بے بات ہنستا ہے کبھی رو دیتا ہے
اس دل کی کیا کیا کہیں یہ تو ناداں ہے
وہ کہہ تو رہا ہے کہ کوئی غم نہیں اُسے
آنکھوں سے مگر اُسکے کچھ اور عیاں ہے
یہ بدلے ہوئے تیور دیکھ کے یوں لگتا ہے
وہ بھی غیروں کی طرح مجھ سے بدگماں ہے
میں کیونکر اس سے تجدید ِمراسم چاہوں
جو کسی بات پہ نادم ہے نا ہی پشیماں ہے
بہتات ِمحبت سے بھی رضا محتاط رہا کر
فراوانی کی بے قدری ہی دستور زماں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






