بچپن کی شرارتیں

Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujrat

وہ دن بھی کتنے اچھے تھے
جب ہم شرارتوں کے پکے تھے
کبھی چڑھتے دیواروں کے اوپر
کبھی نیچے چھپتے چارپائی کے
سب دوست یار مل کر
کبھی روتے اک دوجے سے لڑ کے
کبھی مسکراتے اٹھکلیاں کرتے
کبھی کسی کے ساتھی بن جاتے
کبھی من ہی من دوسروں سے جلتے
وہ دیکھو کیسا لگتا ہے
اک دوجے کا تھےنام رکھتے
جب نام کوئی چڑاتا
اس کو مارنے پیچھے دوڑتے
اس دوڑ میں جب تھک جاتے
اس دوجے کے گھر سے بوتل پی لیتے

گھر میں امی سے چھپ کر کچن میں
دودھ ملائی چپکے سے کھا لیتے
جب ڈانٹ کی باری آجاتی
اک دوجے کا نا م لے کر بچ جاتے
سب بہن بھائی
دادی کی نظروں سے بچ کر
مٹھی میں مٹی چھپا کر
اک دوجے پہ پھنکتے پھرتے
ابا کا جوتا اٹھنے سے پہلے
کہیں دور بھاگ جایا کرتے

وہ دن بھی کتنے اچھے تھے�
جب ہم چھو ٹے سے بچے تھے

Rate it:
Views: 942
21 Aug, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL