پھر طے ہے میں نے تم سے محبت ہی نہیں کی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدرپن نے اگر میری وکالت ہی نہیں کی
پھر طے ہے میں نے تم سے محبت ہی نہیں کی
پوچھا ہزار ہا پتہ اپنے وجود کا
دل نے اے دوست کھل کے وضاحت ہی نہیں کی
کچھ یوں ہوا کہ حسن رہا احتیاط میں
کچھ یہ بھی ہے کہ عشق نے ہمت ہی نہیں کی
اک انقلاب شوق رہا اضطراب میں
تیری نظر نے بڑھ کے بغاوت ہی نہیں کی
آئے نہ کھل کے سامنے گر راز کائنات
بس سمجھ لوکہ ہم نے عبادت ہی نہیں کی
فطرت کی چل رہی تھی سخاوت بھری فضا
دل نے بیان اپنی ضرورت ہی نہیں کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






