پھر کسی غلط فہمی کا شکار کیوں ہو
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK پھر کسی غلط فہمی کا شکار کیوں ہو ؟
دل اسکے بارے بدگمان یار کیوں ہو ؟
گر نہیں اس پر بھروسہ تو پھر ؟
دل کو کسی اور پر اعتبار کیوں ہو ؟
زخم تازہ ہیں یار ابھی الفت کے۔
بہتے ریشے کو پھر قرار کیوں ہو ؟
ابھی تو ابتدا ھے مراحل عشق کی۔
ہنوز دل اسکی چاھت سے دستبردار کیوں ہو ؟
مانا کہ کر بیٹھا ھے کوئی خطا ظالم۔۔
ہاں مگر دل اسقدر شرم سار کیوں ہو ؟
وہ جو خود سے رکھے مطلب سدا۔۔۔
وہ کسی سورت وفا شعار کیوں ہو ؟
اس کو رخصت جب ہونا ھے آخر۔۔۔
تو دل افسردہ آنکھ اشک بار کیوں ہو ؟
رونق محفل ھے اگر اس کا آ نا۔۔۔
تو اور پھر مزید انتظار کیوں ہو ؟
اے شمع الفت تیرا پروانہ !!!
مر مٹے تجھ پر جان نثار کیوں ہو ؟
مانا کہ اسے سونپ دی ھے زندگی ہم نے۔
ہاں مگر وہ صاحب کل اختیار کیوں ہو ؟
وہ جو بچھڑا ھے اپنی مرضی سے
غم میں اسکے آنکھ اشک بار کیوں ہو ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






