پھر کسی غلط فہمی کا شکار کیوں ہو

Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK

 پھر کسی غلط فہمی کا شکار کیوں ہو ؟
دل اسکے بارے بدگمان یار کیوں ہو ؟

گر نہیں اس پر بھروسہ تو پھر ؟
دل کو کسی اور پر اعتبار کیوں ہو ؟

زخم تازہ ہیں یار ابھی الفت کے۔
بہتے ریشے کو پھر قرار کیوں ہو ؟

ابھی تو ابتدا ھے مراحل عشق کی۔
ہنوز دل اسکی چاھت سے دستبردار کیوں ہو ؟

مانا کہ کر بیٹھا ھے کوئی خطا ظالم۔۔
ہاں مگر دل اسقدر شرم سار کیوں ہو ؟

وہ جو خود سے رکھے مطلب سدا۔۔۔
وہ کسی سورت وفا شعار کیوں ہو ؟

اس کو رخصت جب ہونا ھے آخر۔۔۔
تو دل افسردہ آنکھ اشک بار کیوں ہو ؟

رونق محفل ھے اگر اس کا آ نا۔۔۔
تو اور پھر مزید انتظار کیوں ہو ؟

اے شمع الفت تیرا پروانہ !!!
مر مٹے تجھ پر جان نثار کیوں ہو ؟

مانا کہ اسے سونپ دی ھے زندگی ہم نے۔
ہاں مگر وہ صاحب کل اختیار کیوں ہو ؟

وہ جو بچھڑا ھے اپنی مرضی سے
غم میں اسکے آنکھ اشک بار کیوں ہو ؟

Rate it:
Views: 817
22 Jun, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL